سیکریٹری سینیٹ کو جیل میں ڈالا جائے، سعید غنی

0
75

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں 7 مسترد شدہ ووٹوں کے معاملے پر کہنا ہے کہ سیکریٹری سینیٹ کو برطرف کرکے جیل میں ڈالا جائے۔سیکریٹری سینیٹ نے ووٹرز اور امیدوار کو مس گائیڈ کیا ہے، ہمیں یقین تھا کہ یہ کیمرے کے بعد کوئی حربہ استعمال کریں گے۔

صوبائی وزیر سعید غنی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہمارے ووٹرز نے دیانتداری سے پارٹی ہدایت کے مطابق ووٹ دیا ہے، ہمارے ووٹرز نے جان بوجھ کر ووٹ خراب نہیں کیے، اگر ووٹرز کو ووٹ ضائع کرنا ہوتا وہ دونوں امیدواروں کو ووٹ ڈالتے، اگر ووٹر کو ووٹ مسترد کرانا ہوتا تو وہ بیلٹ پیپرکو خالی چھوڑ آتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے7 ووٹ جینوئن تھے جن کومسترد کیا گیا، چیئرمین سینیٹ کا انتخاب،ووٹ مسترد ہونے پرعدالت سے رجوع کریں گے۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شبلی فراز نے کہا تھا کہ سینیٹ الیکشن جیتنے کیلئے ہر حربے استعمال کریں گے، ان کا لہجہ بتارہا تھا کہ حکومت ہرحال میں سینیٹ الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ مصطفی نواز کھوکھر اور مصدق ملک نے پولنگ بوتھ سے خفیہ کیمرے پکڑے، کیمرے کے منصوبہ سے حکومت نے اپنے ووٹرز کو خوفزدہ کیا، کیمرے کا ڈرامہ پکڑنے پر حکومت نے کہا کہ یہ اپوزیشن نے لگائے تھے، اگر اپوزیشن نے لگائے تو سیکریٹری سینیٹ کو برطرف کرو۔

انہوں نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک نے سیکریٹری سینیٹ سے رابطہ کیا، فاروق ایچ نائیک، علی قاسم گیلانی اور میں سیکریٹری سینیٹ کے پاس گئے۔

سعید غنی نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں کیمرے لگ سکتے ہیں بیلیٹ بیپر میں بھی گڑبڑ ہوسکتی ہے، ہم نے سکریٹری سینیٹ سے کہا کہ بیلیٹ پیپر پر کوئی اور نشان نہیں ہونا چاہئے، ایک ممبر نے شیری رحمٰن سے کہا کہ نام پر مہر لگا دی ہے یہ ٹھیک ہے ۔

شیری رحمٰن نے سیکریٹری سینیٹ سے پوچھا تو انہوں نے نام پر مہر لگانا ٹھیک ہے، میں مطالبہ کرتا ہوں سیکریٹری سینیٹ کو برطرف کرکے جیل میں ڈالا جائے، سیکریٹری سینیٹ نام بتائے کس نے کیمرے لگائے۔

انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے نام کے آگے الگ سے خانہ نہیں تھا، ایک ہی خانہ تھا، جان بوجھ سے ووٹ مسترد کرنے کے تاثر کو رد کرتا ہوں، ہمارے ووٹرز نے جان بوجھ کر ووٹ خراب نہیں کئے۔

سعید غنی نے کہا کہ اگر ووٹ مسترد کرانا ہوتا تو دونوں خانوں میں مہر لگانا آسان ہوتا، سات نشانات یوسف رضا گیلانی کے باکس اور نام پر لگے تھے، مظفر شاہ صاحب کا لہجہ رعونت والا تھا، مظفر شاہ کو فون کے علاوہ بھی بہت کچھ آیا ہوگا، فون پر اتنی تابعداری نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ مظفر شاہ نے بددیانتی پر مبنی رولنگ دی ہے، غیرقانونی رولنگ دی ہے، مظفرشاہ نے ہارے ہوئے صادق سنجرانی کو زبردستی کامیاب قرار دیا گیا۔

source from: https://jang.com.pk/news/897229

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں